Kader Attia

Untitled, 2020
Collages and drawings, new commission

‘For many years I have been interested on the particularity of non-western queer. It started 20 years ago, with Algerian transgenders. Then one day a transgender friend of mine told me about the existence of hijras in India, Pakistan, Bangladesh and other countries of the Subcontinent. During a first trip to India in 2009, I was lucky enough to be introduced to a group of them and their guru.
What is the most intriguing to me, is the fact that they see themselves neither as men nor women, even if they look like transgenders, but as women living in a man’s body. The space in-between, the fold they embody is an endless possibility of genders. This leads me to another notion I have been exploring in my work (with the photographic series Rochers Carrés, among others), which is exile. Can someone be exiled in his/her own body? Can a woman be exiled in a man’s body?
This idea of exile leads me to tackle the question of the body as an unknown territory, with undefined borders. Through the area’s history (Pakistan, India, Bangladesh, etc…) and more particularly it’s colonial history, I would like to understand this body through a pre-colonial culture, that hijras still embody, and a post-colonial one, through the place they have today in society.’ Kader Attia


کئی برس سےغیرمغربی جنسیت میری دلچسپی کا مرکز تھے۔اس کا آغاز بیس برس قبل الجیریا کے خواجہ سرا سے ہوا۔ تب ایک دن ایک خواجہ سرا دوست نے مجھے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت برصغیر کے دوسرے علاقوں میں موجود ‘ہیجڑوں’ کا بتایا۔ 2009 میں بھارت کے پہلے دورے کے درمیان خوش قسمتی سے میری ملاقات ان کے ایک گروپ اور ُگ ُرو سے ہوئی۔

میرےلیےسبسےزیادہ حیرانی کی بات یہ تھی کہ یہ لوگ اپنےآپ کونہ تومردسمجھتے ہیں نہ عورت، اور بیشک وہ خواجہ سرا جیسے نظر بھی آئیں مگر ان کے نزدیک ان کی روح عورت ہے جو مرد کے جسم میں ہے۔ ان دونوں اصناف کے درمیان کا علاقہ جہاں یہ لوگ خود کو دیکھتے ہیں وہاں کئی قسم کیِ صنفوں کےامکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس سےمیری توجہ ایک اورتصورکی طرف گئی جس پرمیں اپنی تحقیق میں کام کرتا رہا ہوں (دیگر کے علاوہ روچر کیرس کے تصویری سلسلے کس ساتھ) اور وہ ہے “دربدری” کا تصور۔ کیا کوئی شخص اپنے ہی جسم میں دربدرہوسکتا ہے۔ کیا ایک عورت کو مرد کے جسم میں دھکیلا جاسکتا ہے

دربدری کے اس تصور کی مدد سے میرے نزدیک جسم کی ایسی تصویر پیدا ہوئی جو بالکل انجان علاقے جیسی ہے اور اس کی سرحدیں بھی نامعلوم ہیں۔ اس ِعلاقے( بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ) کی تاریخ اور بالخصوص اس کی نوآبادیاتی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جسم کو ماقبل نوآبادیاتی ثقافت کے ذریعے سمجھنا چاہوں گا جو ابھی تک خواجہ سراؤں کے ہاں موجود ہے اور مابعد نوآبادیات کے ذریعے بھی جس میں وہ مقام شامل ہے جو آج ان ہیجڑوں کو معاشرے میں حاصل ہے۔


Text provided by artist